**K**PK Golden Sky**A**

............سفر میں روزہ................

View previous topic View next topic Go down

............سفر میں روزہ................

Post  Tanha.dil on Wed Aug 03, 2011 11:21 am

سفر میں روزہ نہ رکھنے کی شرط یہ ہے کہ وہ عرف یا مسافت کے لحاظ سے سفر شمار ہو ( علماء کرام میں پائے جانے والے اختلاف کے باوجود ) یہ کہ شہر سے تجاوز کرچکا ہو شہر سےنکلنے سے قبل روزہ چھوڑنا جمہور علماء کرام کے ہاں صحیح نہيں ۔

ان کا کہنا ہے کہ سفرثابت نہيں ہوا بلکہ ابھی تک تو وہ مقیم اورحاضر ہی ہے ، اوراللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ تم میں سے جو بھی اس ماہ کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہیے } ۔

شہر سے نکلنے سے قبل اسے مسافرنہیں کہا جائے گا ، لیکن اگر وہ شھر میں ہی ہو تو اس کا حکم حاضراورمقیم کا ہی ہوگا جس کی بنا پر وہ نماز قصر نہيں کرےگا ۔

اوریہ بھی شرط ہے کہ وہ سفر معصیت کے لیے نہ ہو ( جمہور علماء کرام کے ہاں یہی شرط ہے ) ، اور سفر اس لیے نہ کرے کہ وہ روزہ افطار کرنے کا حیلہ ہو ۔

امت اس پر متفق ہے کہ مسافر کےلیے روزہ نہ رکھنا جا‏ئز ہے چاہے وہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہویا پھر وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہی کیوں نہ ہو ، اوراگرچہ اسے روزہ رکھنے میں مشقت پیش آئے یا مشقت نہ ہو ، مثلا اس طرح کہ اگر کوئي شخص سائے میں سفر کررہا ہو اوراس کے ساتھ پانی بھی ہو اورخدمت کے لیے خادم بھی توایسے شخص کے لیے بھی روزہ افطار کرنا جائز ہے ہوگا اوروہ نماز بھی قصر ادا کرے گا ۔

دیکھیں : مجموع الفتاوی ( 25 / 210 ) ۔

جوشخص رمضان المبارک میں سفر کرنے کا عزم کرے تواسے سفرسے پہلے روزہ افطار کرنے کی نیت نہيں کرنی چاہیے ، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اسے بیماری سفر سے روک دے ۔

دیکھیں تفسیر القرطبی ( 2 / 278 ) ۔

مسافراپنے شہر کو چھوڑنے سے قبل ہی روزہ افطار نہ کرے بلکہ جب وہ آبادی سے باہر نکل جائے تو پھر روزہ افطار کرے ، اسی طرح جب ہوائي جہاز آڑان بھرلے اورآبادی سے دور ہوجائے تو افطار کرنا چاہیے ، لیکن اگر ایرپورٹ شہر سے باہرہو تو وہ روزہ افطار کرسکتا ہے ، اوراگر ہوائي اڈا اس کے شہر میں ہی ہویا اس سے ملحق ہو تواسے روزہ افطار نہيں کرنا چاہیے کیونکہ وہ ابھی تک شہر میں ہی ہے ۔

جب کوئي زمین پرغروب شمس کے بعد روزہ افطار کرے اورپھر ہوائي جہاز کے ذریعہ فضامیں پہنچے تو سورج دیکھ اسےکھانے پینے سے نہيں رکے گا ، کیونکہ وہ تو اس دن کا اپنا روزہ مکمل کرچکا ہے لھذا کسی عبادت کی ادائيگي کے بعد اسے دوبارہ ادا نہيں کیا جائے گا ۔

اوراگر ہوائي جہاز غروب شمس کے بعد اڑان بھر کرفضا میں پہنچے توفضا میں سورج نظرآنے تک روزہ افطار نہیں کیا جاسکتا ، اوراسی طرح پائلٹ کے لیے جائزنہیں کہ وہ افطاری کرنے کے لیےہوائي جہاز کی بلندی اتنی کم کردے جہاں سے سورج نظر نہ آئے کیونکہ یہ حیلہ ہے ، لیکن اگر وہ ہوائي جہاز کی مصلحت کی بنا پر بلندی میں کمی کرتا ہے توسورج کی ٹکیا غا‏ئب ہوجانے پر روزہ افطار کرسکتا ہے ۔

شیخ ابن بازرحمہ اللہ کا بالمشافہ فتوی ۔

جوکوئي کسی ملک میں پہنچے اوروہاں چاریوم سے زيادہ ٹھرنے کی نیت کرے تو جمہورعلماء کرام کے ہاں اس پر روزے رکھنے واجب ہوں گے ، اوراسی طرح جو طالب علم پڑھائي کے لیے کچھ ماہ یا برسوں کےلیے شہر سے باہر جائے وہ مقیم کے حکم میں ہوگا ، جمہور جن میں آئمہ اربعہ بھی شامل ہیں کے ہاں وہ بھی مقیم کے حکم میں ہے اوراسے نماز مکمل کرنا ہوگي اور روزے رکھنا ہونگے ۔

اوراگر کوئي مسافر کسی بھی ملک سے گزر رہا ہو تو اس پر لازم نہيں کہ وہ دن کا باقی حصہ کچھ نہ کھائے پیۓ ، لیکن اگر وہ وہاں چاریوم سے زيادہ رہنے تووہ روزہ رکھے گااس لیے کہ وہ مقیم کے حکم میں ہے ۔

دیکھیں فتاوی الدعوۃ ابن باز رحمہ اللہ تعالی ( 977 ) ۔

جوشخص مقیم ہونے کی صورت میں روزے کا آغاز کرے پھر دن کے دوران ہی سفر کرے تو اس کےلیے روزہ افطار کرنا جائز ہے ، اس لیےکہ اللہ تعالی نے سفر کو رخصت کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :

{ جوکوئي بھی مریض یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے } ۔

ہروقت سفر کرنے والے کے لیے بھی روزہ نہ رکھنا جائز ہے مثلا ڈاکیا جومسلمانوں کی مصلحت کے لیے سفر میں ہی رہتا ہے ( اوراسی طرح گاڑیوں کے ڈرائیور ، اورہوائي جہاز کے پائلٹ ، اورملازم حضرات اگرچہ وہ روزانہ ہی سفر پر رہتے ہوں لیکن انہيں قضاءمیں روزے رکھنا ہونگے )

اوراسی طرح وہ ملاح جس کی خشکی پر رہائش ہو لیکن وہ ملاح جس کےساتھ اس کی بیوی اورضروریات زندگی سب کشتی میں ہوں اوروہ ہر وقت سمندر میں سفر پر ہی رہتا ہو توایسا شخص نہ تو نماز قصرکرے گا اورنہ ہی روزہ افطار کرے گا ۔

اوراسی طرح وہ خانہ بدوش جوایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہوں اپنا ٹھکانہ بدلتے ہوئے سفر میں نماز بھی قصر کرسکتے ہیں اورروزہ بھی افطار کرسکتے ہیں ، لیکن جب وہ سردیوں اورگرمیوں والے اپنے ٹھکانہ پرپہنچ جائيں تووہ نماز مکمل پڑھیں گے اورروزہ بھی رکھیں گے، چاہے وہ اپنے جانوروں کے پیچھے ہی بھاگتے پھریں ۔

دیکھیں مجموع فتاوی ابن تمیمہ ( 25 / 213 ) ۔

جب مسافر دن کے دوران سفر سے واپس آجائے تواس پرواجب ہے کہ وہ اس دن کے بقیہ حصہ میں کچھ بھی نہ کھائے پیۓ ، اس میں علماء کرام کے مابین نزاع مشہور ہے ، دیکھیں : مجموع الفتاوی ( 25 / 212 ) ۔

لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ رمضان المبارک کی حرمت کا خیال رکھتے ہوئے اسے کچھ نہیں کھانا پینا چاہیے ، لیکن اس پراس دن کی قضاء واجب ہوگي چاہے وہ اس دن کھائے پیۓ یہ بغیر کھائے ہی گزارے ۔

جب کسی ملک میں وہ رمضان کی ابتدا کرکے کسی دوسرے ملک میں جائے جہاں ایک دن قبل یا بعد میں رمضان شروع ہوا ہو تو اس کا حکم بھی ان کے ساتھ ہی ہوگا وہ ان کےساتھ ہی روزہ رکھے گا اوران کے ساتھ ہی عید کرےگا ، اگرچہ تیس سے بھی زيادہ روزے ہوجائيں ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( روزہ اسی دن ہے جس دن تم روزہ رکھو ، اورعید اس دن ہے جس دن تم عید کرو ) ۔

اوراگر اس کے روزے انتیس سے بھی کم ہوجائيں توعید کے بعد اسے انتیس کرنا ہوں گے کیونکہ ھجری مہینہ انتیس یوم سے کم نہيں ہوتا ۔

دیکھیں فتاوی الشیخ عبدالعزيز بن باز فتاوی الصیام طبع دار الوطن صفحہ نمبر ( 15 - 16 ) ۔
avatar
Tanha.dil
FORUMPK MEMBER
FORUMPK MEMBER

Posts : 145
Join date : 2011-04-16
Age : 31
Location : Lahore

View user profile

Back to top Go down

View previous topic View next topic Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum